ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی میں بے جا گرفتاریوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند

دہلی میں بے جا گرفتاریوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند

Fri, 01 May 2020 11:10:45    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) شہریت ترمیمی ایکٹ، این پی آر اور این آر سی  کے خلاف مظاہروں میں پیش پیش رہنےوالے سماجی کارکنوں  اور ریسرچ اسکالرس کو  دہلی فساد  کا الزام عائد کرکے یوپی اے تحت گرفتار کئےجانےپر ملک بھر میں بے چینی  محسوس کی جارہی  ہے۔ اس کا اظہار کرتےہوئے ملک کی متعدد سماجی تنظیموں اور ممتا زشخصیات نے گرفتاریوں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ 

حکومت کے رویے کےخلاف  اے سی مائیکل ، آبھا بھیا ، شبنم ہاشمی ، ابوزر چودھری ، آنند ماجگا ؤنکر ، انل چامڑیا ، عینی راجا، پروفیسر اتل سود ، بٹنی رائو ڈیزل فرنانڈیز ، دلیپ شمون  اور  دیو دیسائی سمیت درجنوں سماجی کارکنان ، حقوق انسانی کے علمبرداروں اور سماجی رضاکاروں کی جانب سے آواز بلند کی گئی ہے ۔ اپنے دستخط  سے جاری کئے گئے  بیا ن میں ان کارکنوں   نے  کو وڈ-19 کی  وبا کے دوران مرکزی حکومت کے ذریعہ یواے پی اے کے ناجائز استعمال کی مذمت  کی ہے ۔ انھو ں نے کہا کہ ’’ہم ہندوستان کےسماجی  کارکن اور شہریوں کا گروپ آئی پی سی اور یو اے پی اے کی رجعت پسند دفعہ 124؍ اے  کے غلط استعمال اور جھوٹے کیس میں گرفتاریوں پر گہری فکر مندی کااظہار کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں حکومتیں کووڈ۔19 کی وبا کے خلاف لڑ رہی ہیں،مودی حکومت لاک ڈائون  کے بہانے لوگوں کے بنیادی حقوق کو ختم کر رہی ہے ۔ لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور خیالی مقدمے قائم کرکے   انھیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے ۔‘‘

 واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں دہلی میں لاک ڈاؤن کے دوران  پہلے  صفورہ زرگر اور میراں حیدر کو گرفتار کیاگیا پھرجامعہ ملیہ اسلامیہ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن اور  سابق طلبہ کی تنظیم  کے صدر شفاء الرحمن کو گرفتار کرلیاگیا۔ان سب پر یو اے پی اے  کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں اورانہیں دہلی فساد کا ملزم بنایاگیاہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دہلی میں ایسے کئی افراد کو نوٹس دیئے گئےہیں جو مذکورہ مظاہروں کے قائدین  میں شامل تھے۔ سماجی کارکنوں  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’’ یہ سب 17؍ دسمبر 2019ء کو شروع ہوا جب آسام میں  بدعنوانی مخالف اور حق اطلاعات کے کارکن اکھل گوگوئی پر ملک مخالف ہونے کا الزام عائد کیا گیا  اوران پر  یو اے پی اے  نافذ کردیاگیا۔‘‘ سماجی کارکنان نے یاد رہانی کرائی ہے کہ 14؍ اپریل 2020ء کو آنند تیل تومبڑے اور گوتم نولکھا کو قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) اور یواے پی اے کے تحت گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا ۔ پیوپلس یونین فار ڈیموکریٹک ریفارم اور دیگر اداروں کے ذریعہ اٹھائے گئے کئی بنیادی مسائل سے بھیما کورے گائوں کے فوجداری معاملے میں غلط طریقہ سے گرفتار کیے گئے 11؍ کارکنان کے خلاف کیس بنانے کی سازش کی گئی اور انھیں بغیر ضمانت کے 18 سے 20 مہینے تک گرفتار کیا گیا اور قید کر لیا گیا۔  حکومت پر سماجی کارکنوں کو نشان بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’یہ بنیادی طور پر ہندوستان کے   آدیواسیوں اور دلتوں جیسے سب سے کمزور طبقہ کیلئے کام کرنے کا نتیجہ ہے کہ انھیں گرفتار کیا گیا ۔‘‘سنبھاجی بھڑے اور ملند ایک بوٹے دونوں 65 سال سے زیادہ عمر کے ہیں اور دل کے مریض بھی ہیں ۔ ان کے علاوہ حالیہ دنوں  میں  کشمیر میں  صحافیوں پر بھی یو اے پی اے کا اطلاق کیاگیا ہے جس پر سماجی کاکنوں نے شدید برہمی کااظہار کیا ہے۔ 


Share: